کئی روز سے تیرے سائے نے میرا پیچھا نہیں کیا..میری آنکھوں سے نمی جا چکی ہے . جب کہ میری محبت کا لاشہ میرے کاندھے پہ ہے.. تمہاری بے وفائی نے مجھے زمانے کی حدور سے آزاد کر دیا ہے. اب میں صحراؤں میں پانی تلاش کیا کرتا ہوں ..دنیا کی مہنگی ترین گھڑی تمہارے لوٹنے کے انتظار میں ہے.. ستاروں نے احتجاجاً اپنے مدار میں گھومنا چھوڑ دیا ہے .. آسمان آبِ حیات برسا رہا ہے.. لیکن تمہارے باغیچے میں لگے سرخ گلاب سخت قیامت سے گزر رہے ہیں.. آج میں نے خود کو تمہاری کہانی سے الگ کر لیا ہے .. اب تم میری یک طرفہ محبت ہو

…از قسور حسین ..

موم کی گڑیا

وہ اتنی خوبصورت ہے کہ اسکے ہونٹوں کی نمی سے شبنم بنائی جاسکتی ہے .. اسکی پلکوں سے اک نئی صبح اگائی جاسکتی ہے ..ماہرِ فلکیات اسکی انگڑائی کو نہ جانے کتنے ستاروں کے ٹوٹ جانے کا سبب بتا چکے ہیں. کتنے موسیقار اسکے قدموں کی چاپ سے جانے کتنی دھنیں بنا چکے ہیں ..اسکی دلکشی کے گیت گا چکے ہیں. اس کی زلفوں سے کائنات کی کئی گتھیاں سلجھائی جاسکتی ہیں.بارشیں روکی جاسکتی ہیں .. لہریں پھر سے بنائی جاسکتی ہیں..اسکے ساتھ چلنے کے لیے زندگی کی چین کھینچ کر نیچے اترا جاسکتا ہے ..ڈھلتے سورج کو کچھ دیر انتظار کرایا جاسکتا ہے ..اسکا لمس محسوس کرنے کے لیے اسے وقت کی قید سے آزاد کرایا جاسکتا ہے ..قدرت کا ہر خوبصورت ترین منظر اسکی ایک جھلک پانے تلک گنوایا جاسکتا ہے .. اسے اپنا بنایا جاسکتا ہے!!

….قسورحسین ..

سرِبازار

آج ہم بھی سرِبازار چلے
ہم جو چلے تو سارے ہی یار چلے۔۔
چلے تو تھے یونہی ٹہلنے کو
ساتھ مگر خواہشوں کے انبار چلے۔۔
کچھ تہزیب فروشوں سے پڑا پالا
اب جو چلے قطار در قطار چلے۔۔
یوں تو سب نے ہی لیا حسبِ توفیق کچھ نہ کچھ
اک ہم ہی بھرے بازار بے کار چلے۔۔
غالباً بہت مصروف تھے سارے جو کہنے لگے
تمہیں رکنا تو رکو ہم تو اپنے کاروبار چلے۔۔
یوں رکنے کا سبب پیدا تو کر گۓ ظالم
سوچو کوئی اب کس ڈگر آخرکار چلے۔۔
پھر کچھ یوں ہو ا کہ
اک نگاہِ قاتل کے ہوۓ درشن
تیر نظر جو چلے تو بار بار چلے ۔۔
گھائل دل تو پہلے بھی تھا مگر وادیِ عشق میں
اب ہی کیوں بادِ نو بہار چلے۔۔
خیر اب تمنائیں تو بہت ہیں مگر ادھوری ہیں
فی الحال مگر ہم کوۓ یار چلے۔۔
۔۔۔ قسورحسین خان۔۔

۔۔۔ راکھ کا ڈھیر۔۔

فرض کرو! فرض کرو ! تمہیں راکھ کا ایک ڈھیر ملے۔۔ تمہاری بے رخی کے تیر کھاۓ، بے وفائی کی چِتا پہ لیٹے اس شخص کی راکھ جو اب سے کچھ دیر پہلےتمہارے نام کے طعنوں سے جلایا گیا ہو۔۔ جو صدیاں کاٹ کہ تم تک پہنچے اور تمہارا سایہ بھی اسے نصیب نہ ہو ۔۔ایک مجبور اور لاچار شخص جس سے اسکی آخری خواہش تک نہ پوچھی ہو ۔۔
کیا تم بنا پاؤ گی ایک ایسا شخص؟۔۔ ہاں! اسی راکھ سے ایک جیتا جاگتا انسان جو تمہیں پاگلوں کی طرح چاہے.. تمہارے ہونٹوں کی لالی پہ اپنی ہزار خوشیاں قربان کر دے ۔۔ ان کالی گھٹاؤں کے آنگن میں جو اپنی شامیں گزار دے۔۔ جسکے شعور اور لا شعور میں بس تم ہی خیمہ زن رہو۔۔ سوا تمہارے جو دنیا کہ ہونے سے قطع تعلقی کا دعوے دار ہو ۔۔
کیا تم کر پاؤ گی ؟ بنا پاؤ گی ؟ ایک نقشِ محبت ۔۔ ایک دلِ بے زار ۔۔ ایک جوڑا آنکھوں کا جس میں تمہاری ہی تصویر چَھپی ہو ۔۔
جسے تم اس طرح سے سینچو کہ اپنا آپ بھول جاؤ۔۔
نہیں تم نہیں کر پاؤ گی ۔۔ یہ تماری بس کی بات نہیں لڑکی ۔۔
دیکھو کہیں آس پاس ۔۔ وہ راکھ کا ڈھیر؟ وہ ابھی زندہ ہے ۔۔ یہیں کہیں، کسی جھیل کنارے بیٹھا تماری راہ تکتا ہوگا۔۔ ڈوبتے سورج کو دیکھ اگلی صبح تمہارے دیدار کا منتظر ہوگا۔۔
۔۔ قسورحسین خان۔۔

۔۔۔ ہاۓ ہم انسان ۔۔

ہم انسان بھی کتنے عجیب ہیں نا۔۔ کبھی کسی کی خاطر جان تک قربان کر دیتے ہیں اور کبھی اپنوں کو نظر آتش کر راحتِ قلب کا اہتمام کرتےہیں۔۔ انا اور خود پرستی کی سنگلاخ پہاڑیوں کی اوٹ میں جذبوں کی قبر ستان میں سنگِ مر مر کی تختی پر لکھےِ ان سنہری الفاظ کی طرح جو بظاہر تو مرنے والے کی بڑائی بیان کر تے ہیں مگر انکی سسکتی آہیں ، ہچکچاتی مسکراہٹیں اور لڑکھڑاتی داستانیں بیچ سمندر ٹھہرے اس پانی کی طرح ہیں جو اپنے اندر صدیوں کی گہرائی لیے بس چپ چاپ محو تماشہ ہے کہ یہ خانقاہیں یہ میخانے یہ مندر و مسجد سب اِک دن راکھ کا ڈھیر ہوگا۔۔ یہ اشرف المخلوقات جو کبھی الللہ کے نام پر بکتے ہیں اور کبھی رام کا چڑھاوا بناۓ جاتے ہیں۔۔وہ وقت دور نہیں جب سب کے سب مفلس و مجبور پاۓ جائیں گے۔۔ چار سو گھپ اندھیرا ، بے نام ساۓ اور ایک گہری خاموشی ہو گی۔۔ اور تب تک ہم انسانیت سے کوسوں دور کسی ایسی ڈگر پر ہونگے جہاں نہ راستے کا علم ہوگا اور نہ منزل کا پتہ۔۔
تھکے ہارے مجبور و لاچار لوگوں کا ایک جم غفیر ہوگا جو بے بسی کے سہرے سجاۓ آنکھوں میں شرمندگی کا سرمہ ڈالے ماتھے پہ بدنامی کا تاج اٹھاۓ ۔۔ مفلسی کا رونا روۓ گا ۔۔ تب کسی کو بھیک بری نہیں لگے گی۔ مانگنے پہ کوئی اعتراز نہ اٹھاۓ گا ۔۔ ہندو ، مسلم ، سکھ عیسائی سب ایک ہی لائن میں لگے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہونگے ۔۔
پھر ایک سوال آتا ہے کیا ہم واقعی اشرف المخلوقات ہیں ؟؟
اور پھر آسمان زرد ہوتا ہے ، بجلیاں کڑ کتی ہیں چیخیں گونجتی ہیں ،اور سسکیوں کا دور دورہ ہے ۔۔
۔۔ قسور حسین خان ۔۔

گری ہاتھ سے جو مےتوگرپڑےاٹھانےکو
گر اخلاق سےگرے۔۔جستجوکیاکیجۓ؟
وقت ندامت ہےکہ روح پرواز کیۓجاتی ہے
امید ابھی باقی ہے!جینےکی دعا کیجۓ؟
چلوماناغلطیوں کو خطاکاپتلاہےتو۔۔
یہ بھی فطرت میں ہے؟ خالق سے دغاکیجۓ
وحشت ودرندگی کاسمندرہےیہ دنیا۔۔
کہامانیےصاحب! کناروں پہ چلاکیجۓ ۔
نہیں!نہیں!ابھی کچھ وقت باقی ہے سدھرنےکو
اے پروردگار! فرشتوں کو منع کیجۓ۔۔
۔۔قسور حسین خان۔۔

چشمِ نم

اسکے چہرے پہ پریشانی کے آثاراورواضح ہوگئےتھے۔۔اسکی معصوم سی صورت جسے گلاب کی پتیوں سے تشبیح دی جانی تھی۔ جسے کسی رومانوی شاعر کی غزل کا عنوان بنناتھا۔جسکی زلفوں کے ساۓ میں کئی مدھر دھنیں ایجادہونی تھی ۔جسکی مسکراہٹوں کے آنگن میں دنیاکے سارے غموں کی شدت ماند پڑ جاتی۔ آج ایک خزاں ذدہ پیڑ کی اس شاخ کی مانند لگ رہی تھی جہاں پرندے بھی بسیرا کرنا گوارا نہ کریں۔۔ بھائی میں اب کیا کروں ؟ کہاں جاؤں ؟ کچھ تو کہیں !بھائی!بھائی مجھے خوف آتاہے اپنے آپ سے۔۔ اپنے آس پاس پھرتےہر شخص سے جسکی نظروں میں حوص اوربھوک کی سوا کچھ بھی نہیں۔یہ دھند نہیں ہے بھائی یہ انکے کرداروں پرپڑے پردے ہیں جن کی اوٹ میں یہ اپنی اصلیت چھپاتے ہیں ۔ میں!میں! بھکاری نہیں ہوں بھائی نہ آپ سے کچھ مانگ رہی ہوں پر کوئی میری پکار سنتا ہی نہیں ۔۔ میرا خدا اتنا لا پرواہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ۔ مجھے ان درندوں میں اکیلا کیسے چھوڑ سکتا ہے؟ بتائیں نہ بھائی! آپ بول کیوں نہیں رہے ؟ اور میں چپ چاپ کھڑابس اس کی زلفوں میں اترتی چاندی کو دیکھ رہا تھا ۔ آج بھی جب اسکی پکار مجھے سنائی دیتے ہے تو گھٹن سی ہونے لگتی ہے اپنے وجود سے ۔۔میں کیوں نہیں بولا! کیا میں اس قابل بھی نہ تھا کہ اسے دلاسہ ہی دے پاتا۔۔
وہ کون تھی ؟ کیا تھی؟ جو بس آندھی کی طرح آئی اور میرے خیالات کو تہس نہس کر کے چلی گئی۔۔
خیر یہ معمہ ابھی حل طلب ہے ۔۔